Random Posts

Header Ads

Who is Abhijeet Dipke.A revolution or A hero of unemployment freinds

کون ہے یہ ابھیجیت دپکے؟
ایک انقلابی، ایک ہیرو، تبدیلی کا استعارہ، یا ایک کاکروچ؟

محمد شمیم حسین ۔ کولکاتا
وہ 29 ستمبر 1995 کو مہاراشٹر کے اورنگ آباد، موجودہ چھترپتی سمبھاجی نگر، میں پیدا ہوا۔ 
ایک عام سا بچہ، جس کے ماں باپ نے شاید کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ ایک دن ان کا بیٹا ہندوستان کی مضبوط ترین سرکار کے سامنے ایسا چیلنج بن کر کھڑا ہوگا، جس کی مثال راہول گاندھی، ممتا بینرجی اور اروند کیجریوال کی سیاست ہی میں تلاش کی جاسکتی ہے۔جس نے حکومت کی نیند حرام کر دی 

البتہ ابھیجیت روایتی سیاست داں نہیں؛ وہ سوشل میڈیا سے ابھرنے والی جمہوری اور سیکولر نوجوان مزاحمت کا نیا چہرہ ہے۔
ہندو مسلم تقسیم، بڑھتے ہوئے جبر، اور فسطائیت کے خلاف نیا چہرہ۔

ابھیجیت نے پونے سے صحافت کی تعلیم حاصل کی۔ 2020 سے 2023 کے دوران وہ عام آدمی پارٹی کے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل سیاسی مہمات سے وابستہ رہا۔ دہلی اسمبلی کے انتخابات کے دوران نوجوان ووٹرز تک پہنچنے کے لیے میمز اور ڈیجیٹل مواد کی تیاری میں مصروف رہا۔ 2023 میں وہ امریکا چلا گیا، جہاں بوسٹن یونیورسٹی سے پبلک ریلیشنز میں ماسٹرز کیا۔

وہ ایک عام زندگی جی رہا تھا، مگر پھر 15 مئی 2026 کو بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ایک تبصرے نے کہانی بدل دی۔ 
بے روزگار نوجوانوں کے لیے ’’کاکروچ‘‘ کا حوالہ سامنے آیا تو ابھیجیت نے اگلے روز طنزیہ انداز میں سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا: 
"اگر سارے کاکروچ اکٹھے ہوجائیں تو؟" 
یوں 16 مئی کو Cockroach Janta Party (CJP) وجود میں آئی۔ ابتدا میں یہ باقاعدہ سیاسی جماعت سے زیادہ ایک طنزیہ آن لائن تحریک تھی، جس نے نوجوانوں کی بے روزگاری، امتحانی نظام اور حکومتی جواب دہی جیسے مسائل کو اپنا موضوع بنایا۔
اور پھر سوشل میڈیا نے ایک معجزہ دیکھا۔  CJP کا انسٹاگرام اکاؤنٹ چند ہی دنوں میں کروڑوں فالوورز تک پہنچ گیا، اور بعض مرحلوں پر اس نے بی جے پی کی سوشل میڈیا مقبولیت کو بھی مات دے دی۔

مگر اصل مقابلہ سوشل میڈیا پر نہیں، سڑک پر ہوا، آمنے سامنے۔ پیپر لیکس نے ایک ایشو کی شکل اختیار کر لی، نوجوان آٹھ کھڑے ہوئے، سول سوسائٹی نے ساتھ دیا۔ ایسے میں ابھیجیت امریکا سے بھارت واپس آیا، اور دہلی کے جنتر منتر پر نوجوانوں کے احتجاج کی قیادت سنبھالی۔ مطالبات میں امتحانی نظام میں اصلاح، پیپر لیکس پر جواب دہی اور وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کا استعفیٰ نمایاں تھے۔ کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی تحریک بالآخر ایک بڑی سیاسی کام یابی پر منتج ہوئی: دھرمندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔ تمام مطالبات قبول ہوئے۔

یوں مودی سرکار کو ایک نوجوان، ایک طنزیہ ’’کاکروچ‘‘ اور سوشل میڈیا سے جنم لینے والی تحریک کے سامنے  پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ 
وہ، جو ناممکن تھا، ایک نوجوان، اس کے مخلص ساتھیوں نے ممکن بنا دیا۔
مخلص ساتھی یہاں "کے ورڈ" ہے کہ وہ اکیلا نہیں تھا۔ اس جیسے کئی ساتھ تھے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ ہیرو نہیں۔ انقلابی نہیں۔
تبدیلی کا استعارہ ہے۔
md shamim Hossain 
kolkata
india
9433893761